22 جولائی 2012 - 19:30

بيروني طاقتوں کے حمايت يافتہ مسلح دہشتگردوں کے خلاف شامي فوج کي کاروائي بدستور جاري ہے اور گزشتہ تين دنوں کے دوران دمشق کے مضافاتي علاقوں سميت ملک کے کئي علاقوں سے دہشت گردوں کا صفايا کرديا گيا ہے.

ابنا: دمشق کے علاقے ريف ميں گزشتہ روز شروع ہونے والي فوجي کاروائي ابھي بھي جاري ہے  اور شامي فوج بيروني طاقتوں کے حمايت يافتہ مسلح دہشتگردوں کے ٹھکانوں پر تابڑ توڑ حملے کر رہي ہے - کہا جارہا ہے کہ شامي فوج نے گزشتہ چار روز کے دوران ايک ہزار سے ڈيڑ ہزار تک مسلح دہشتگردوں کو ہلاک کرديا ہے-جبکہ فوجي ذرائع نے گزشتہ بہتر گھنٹوں کے دوران دمشق اور اس کے مضافاتي علاقے ريف ميں ہلاک ہونے والے دہشتگردوں کي تعداد دوہزار بتائي ہے-موصولہ خبروں ميں کہاگيا ہے کہ دمشق کےمضافاتي علاقے ريف کے قريب  القابون ميں فوجي کاروائي اب بھي جاري ہے اور شامي فوج  نے دہشتگردوں کے ايک بڑے ٹھکانے کو اپنے گھيرے ميں لے رکھا ہے-کہا جارہا کہ دہشتگرد اس اڈے کو مغويوں کو قيد کرنے اور انہيں ايذائيں پہنچانے کے لئے استعمال کر تے رہے ہيں- شامي ذرائع کا کہنا ہے بہت بڑي تعداد ميں مسلح دہشتگردوں نے اپنے ہتھيار پھينک کر خود کو سيکورٹي فورس کے حوالے کرديا ہے جبکہ سيکڑوں کي تعداد ميں دہشتگردوں کو لڑائي کے دوران گرفتار کيا گيا ہے-دہشتگردوں کے قبضے سے بھاري مقدار ميں جديد ترين اسلحہ اور مواصلاتي نظام بھي برامدا ہوا جن کے بارے ميں کہا جارہا ہے کہ امريکہ اور مغربي ملکوں نے فراہم کيا ہے-فارس نيوز ايجنسي نے بتايا ہے کہ شامي فوج  نے دمشق کے نواحي علاقے سيدہ زينب اور حرم حضرت زينب سلام اللہ عليہ پر قبضے کي کوشش ناکام  بنادي ہے اور فوري کاروائي کرتے ہوئے متعدد دہشتگردوں کو ہلاک  اور يا گرفتار کرليا ہے-دمشق کے مضافاتي علاقے ريف پر شامي فوج کا مکمل کنٹرول ہے اور حرسنا نامي علاقے ميں لڑائي کے اکا دکا واقعات رونما ہوئے ہيں تاہم  مجموعي طور  دہشتگردوں پر قابو پالياگيا ہے-جوبرنامي علاقے ميں جہاں گزشتہ روز شامي فوج اور دہشتگردوں کے درميان شديد جھڑپيں ہوئي تھيں اب صورتحال پرسکون ہے -شامي فوج کا کہنا ہے کہ اس نے ريف کے  علاقے ميں کاروائي  کرکے التل، الضمير اور سيدہ زينب کا علاقہ دہشتگردوں سے مکمل پاک کرديا ہے اور اس علاقے ميں زندگي معمول پر لوٹ آئي ہے- اس رپورٹ کے مطابق ايک سيکورٹي ادارے پر حملہ کرنے والے متعدد دہشتگرد فوج کي جوابي کاروائي ميں مارے گئے ہيں جبکہ متعدد نے خود کو سرنڈر کرديا ہے-دمشق کا الميدان نامي علاقہ بھي پرسکون ہے جہاں گزشتہ دنوں فوج  اور شرپسندوں کے درميان زبردست لڑائي کي خبريں موصول ہوئي تھيں، اس علاقے ميں فوج نےدہشتگردوں کے کئي ٹھکانوں کو تباہ اور بھاري مقدار ميں اسلحہ اور گولہ بارود بھي برامد کيا ہے- المرہ کے علاقے ميں صورتحال پرسکون ہے تاہم فائرنگ کے اکا دکا واقعات رونما ہوئے ہيں-دوسري جانب دمشق ميں جہاں عوام کو گزشتہ دنوں سے روٹي اور ايندھن سميت متعدد اشياء کي قلت کا سامنا تھا اب ہر چيز فراواني کے ساتھ دستياب ہے-يہ بھي اطلاعات ہيں کہ برزہ ، يرموک اور التقديم نامي علاقوں کے لوگ اب بھي سيرين لبريشن آرمي کے دہشتگردوں کے حملوں سے بچنے کے لئے دمشق کے اسکولوں ميں پناہ لئے ہوئے ہيں اور اپنے علاقوں کو دہشتگردوں سے پاک کئے جانے کا انتظار کر رہے ہيں-

.......

/169